Javascript DHTML Drop Down Menu Powered by dhtml-menu-builder.com

 

  

WeloCome Viewers !!!

 

 

عقابی روح جب پیدا ھوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

اک غلط قدم اٹھایا تھا راہ شوق میں
پھر عمر بھرمنزل مجھےڈھونڈتی رہی

 
 

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جوظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

 
 

مجھ کو خوش خوش رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے
وہ خود روپڑا مجھ کو حوصلہ دیتے ھوئے

ضرورت توڑ دیتی ہے غرور بےنیازی کو
نہ ہوتی کوئی مجبوری تو ہر بندہ خدا ہوتا

 
 

وہ الگ بات ہے کہ ممبر پہ آ کر کچھ نہ کہیں
خاموش لوگ بلا کے خطیب ہوا کرتے ہیں

یہ رکھ رکھاو بھی محبت سکھلا گئی اسے
وہ روٹھ کر بھی مجھ سے مسکرا کے ملتا ہے

 
 

ارادے جن کے پختہ ہوںنظرجن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

یہ تاریکیاں میرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہوں
میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا