| |
عقابی روح جب پیدا ھوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں |
اک غلط قدم اٹھایا تھا راہ شوق میں
پھر عمر بھرمنزل مجھےڈھونڈتی رہی
|
|
| |
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
|
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جوظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
|
|
| |
مجھ کو خوش خوش رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے
وہ خود روپڑا مجھ کو حوصلہ دیتے ھوئے
|
ضرورت توڑ دیتی ہے غرور بےنیازی کو
نہ ہوتی کوئی مجبوری تو ہر بندہ خدا ہوتا
|
|
| |
وہ الگ بات ہے کہ ممبر پہ آ کر کچھ نہ کہیں
خاموش لوگ بلا کے خطیب ہوا کرتے ہیں
|
یہ رکھ رکھاو بھی محبت سکھلا گئی اسے
وہ روٹھ کر بھی مجھ سے مسکرا کے ملتا ہے
|
|
| |
ارادے جن کے پختہ ہوںنظرجن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
|
یہ تاریکیاں میرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہوں
میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا
|
|